Login

Username:

Password:


Lost Password?

Register now!

Themes


(4 themes)
SmartMedia is developed by The SmartFactory (http://www.smartfactory.ca), a division of InBox Solutions (http://www.inboxsolutions.net)
Multimedia > Naats > Zauq-e-Naat
Listen Naats of "Zauq-e-Naat". Naats written by Hazrat Molana Hasan Raza khan علیہ الرحمہ.
3rd Naat in Zauq-e-Naat
جن و انس و ملک کو ہے بھروسہ تیرا
سرورا مرجع کل ہے در والا تیرا
جلوہء یار ادھر بھی پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا
خواجہء ہند وہ دربار ہے اعلٰی تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
آسماں گر تیرے تلوؤں کا نظارا کرتا
روز اک چاند تصدق میں اتارا کرتا
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانا مل گیا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
مجرم ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطف شہ تسکین دیتا پیشِ یزداں لے چلا
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
یوسف کو ترا طالبِ دیدار بنایا
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گیا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گیا
یہ اکرام ہے مصطفٰے پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفٰے کا
سر صبحِ سعادت نے گریباں سے نکالا
ظلمت کو ملا عالمِ امکاں سے نکالا
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
توخدا کا، خدا ہوا تیرا
پر نور ہے زمانہ صبحِ شبِ ولادت
پردہ اٹھا ہے کس کا صبحِ شبِ ولادت
ذکرِ شہادت
باغ جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دشمنانِ اہلِ بیت
کیا مژدہء جاں بخش سناﺉے گا قلم آج
کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج
سحابِ رحمتِ باری ہے بارہویں تاریخ
کرم کا چشمہء جاری ہے بارہویں تاریخ
رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
صحرائےطیبہ ہے دلِ بلبل کو تُو پسند
سیرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوئے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر
جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز
سُن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض
اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
لیکن اے دل فرقتِ کوئے نبی اچھی نہیں
نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں
نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں
تمہیں دولہا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ امکاں میں
عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں
کہ نا امیدوں کو امیدوار کرتے ہیں
دل میں ہو یاد تری گوشہٗ تنہائ ہو
پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائ ہو
تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اللہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو تیرا ہاتھ دھرا ہو
عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ
عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ
نہ ہو آرام جس بیمار کو زمانے کو
اٹھا لے جائے تھوڑی خاک انکے آستانے سے
مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے در پر آنے والا ہے
مرادیں مِل رہی ہیں شاد شاد ان کا سوالی ہے
لبوں پر التجا ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے
کرے چارہ سازی زیارت کسی کی
بھرے زخم دل کی ملاحت کسی کی
دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
مرے دل کو چین آئے تو اسے قرار آئے
تیری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئے
تو انہیں دے دور بھاگے جنہیں تجھ پہ پیار آئے
اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری
فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
کیا مدینہ پہ فدا ہو کے بہار آئی ہے
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہرے